Mustafai Dashboard

مصطفائی اقتصادی کونسل


bismillah

"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔"

مرزا غالب نے انسانی فطرت کے سمندر کو ایک مصرعے میں بند کر دیا۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ انسان پیدائش سے لے کر آخری سانس تک خواہشات کے بھنور میں ڈبکیاں کھاتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا ایک ایک دن خواہشات کے ان پھندوں کے ہاتھوں حالت نزع میں جکڑا نظر آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کی خواہشات لا متناہی ہیں اور ان خواہشات کو پورا کرنے کے لئے وسائل بہت محدود ۔ نتیجتا انسانی زندگی مسلسل کرب کا شکار رہتی ہے لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ زندگی سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں۔ لہذا زندگی کو خواہشات پر روپے، دو روپے کے نوٹوں کی طرح نچھاور نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ ایک ہی حل ہے کہ خواہشات اور میسر وسائل کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ انسانی زندگی میں اسی فہم کا اکتساب “علم اقتصاد" کہلاتا ہے۔

بھوک انسانی خواہشات میں سب سے بنیادی اور سب سے شدید مسئلہ ہے۔ لہٰذا کسب معاش ہر دور میں سر کردہ مسئلہ رہا ہے۔ ہر عہد اور ہر علاقہ کے ذہین و فطین لوگ ہوں یا بے وقوف و بے کار، ہر اک نے اس مشکل کو حل کرنے کی بساط بھر کوشش کی ہے اور کبھی کبھی تو اس مشکل اور اس سے جڑے دیگر مسائل نے عالمی سطح پر تحریک کی شکل اختیار کر کے اس عالمی بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور عالمی سطح پر انسان طبقوں اور درجوں میں منقسم، باہم دست و گریباں نظر آئے۔ ایک طویل عقلی اور فکری مارا ماری کے بعد کچھ داناء اس نتیجہ پر پہنچے کہ دولت اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ کیونکہ دولت سے آپ صرف بھوک ہی نہیں بلکہ ہر پریشانی اور دکھ کا حل خرید سکتے ہیں اور دنیا جہاں کی ہر سہولت آپ کی دہلیز پر موجود ہو سکتی ہے لہٰذا دولت واحد مشکل کشاء ہے اور انسان کو ہر حال میں (جائز و ناجائز طریقے سے) اسے حاصل کرنا چاہیے۔

دولت جب کامیاب انسانی زندگی کی کنجی قرار پائی تو ہر فرد اس کی تلاش میں چڑھ دوڑا۔ نتیجتا کسی کے ہاتھ زیادہ، کسی کے ہاتھ کم اور کوئی خالی ہاتھ رہ گیا۔ اس طرح معاشرہ عدم مساوات کے ہاتھوں منقسم ہو کر کئی طبقات میں بٹا اور احساس برتری، احساس کمتری اور احساس محرومی کا شکار ہو کر شدید بے چینی سے دوچار ہو گیا۔ چنانچہ رد عمل کے طور پر نیا نظریہ ظہور پزیر ہوا کہ تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات ایک جیسی ہیں لہٰذا وسائل کی تقسیم بھی مساوی ہونی چاہیے۔ اس طرح تمام وسائل ریاست کی ملکیت ہیں اور ریاست کے ہر شہری کو کام کرنا ہو گا۔ ریاست ہر شہری کو بقدر ضرورت وسائل مہیا کرے گی۔ بظاہر یہ بہت سادہ اور آسان فارمولا تھا مگر عملی زندگی میں مکمل طور پر ناکام ہوا بلکہ مسائل کی آماجگاہ ثابت ہوا اور صفحۂ ہستی سے مٹ گیا۔

کسبِ معاش انسانی زندگی کا سب سے اہم اور اثاثی پہلو ہے۔ دولت کا ارتکاز کسی بھی معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ معاشرتی سکون اور ہم آہنگی کے لئے وسائل کی منصفانہ و عادلانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ اس بات کا یقین ضروری ہے کہ دولت زندگی کی ایک بڑی سہولت ہے لیکن ہر مشکل اور مسئلے کا حل نہیں۔ ورنہ کسی دولت مند کو موت نہ آتی، کوئی امیر آدمی بیمار یا بوڑھا نہ ہوتا، کوئی سیٹھ بے اولاد نہ ہوتا یا کسی وڈیرے کی اولاد نافرمان نہ ہوتی۔ زندگی میں توازن دولت سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں سے مال کمانے اور زندگی گزارنے میں ہے۔