Mustafai Dashboard

مصطفائی جسٹس فورم


bismillah

محمد افضل دھرالا


محمد افضل دھرالا

(ممبر پنجاب بار کونسل)

(کنو ینئر)

رفاقت-اسلام


محمد رفاقت اسلام

(فنانس سیکرٹری سپریم کورٹ بار)

(کنو ینئر)

sample-image


اجمل ضیا چیمہ

(کنوینئر)

رائے صلاح الدین


محمد اسد الاحسن اعوان

(کنوینئر)

Iftikhar-image


افتخار علی چودھری

(کنوینئر)

معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے اور اس میں بہت سارے طبقات ہیں، مثلاجنس کی وجہ سے، عمر کی وجہ سے، علم کی وجہ سے، پیشے کے اعتبار سے اور بے شمار وجوہات کی بناء پر یہ تقسیم و تفریق موجود رہتی ہے۔ ہر طبقے اور طبقے کے ہر فرد کے اپنے بنیادی و ضروری مفادات ہوتے ہیں۔ ان مفادات کے حصول کی کوششوں کے دوران باہم مسائل ،الجھنیں اور ٹکراؤ بلکہ تصادم کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جو کہ بالآخر معاشرتی بے چینی، بدامنی اور جنگ پر منتج ہوتی ہے۔ اس صورتحال کو جوں کا توں رہنے دیا جائے تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا ماحول جنم لیتا ہے جو کہ سراسر جنگل کا دستور ہے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کچھ دائرے، حدیں یا رکاوٹیں پیدا کر لی جائیں جس سے ہر طبقہ اپنی ہی حد کے اندر رہے تا کہ دوسرے سے تصادم کی صورت پیدا نہ ہو اور معاشرہ امن، چین اور خاص ترتیب کے ساتھ اپنے فرائض بجا لاتا رہے تاکہ کرہ ارض ایک پرسکون جگہ بن سکے۔ ان دائروں، حدوں یا رکاوٹوں کو ہم قانون کہہ سکتےہیں۔زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وقف ہے لیکن اس کی اپنی زندگی۔۔۔

پرانے زمانے میں زندگی معاشروں تک محدود تھی۔ رسل و رسائل کے ذرائع میں ترقی سے معاشرے ،ملک اور ملک، بین الاقوامی صورت اختیار کر گئے۔ اب انسانوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرحدیں توڑ ڈالیں اور کرہ ارض عالمی بستی کی صورت اختیار کر گیا۔ ترقی کے اس عمل نے انسان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ دن بدن بڑھتی قربت کے نتیجے میں باہمی روابط اور لین دین میں اضافہ ہوا تو مفاداتی ٹکراؤ میں بھی شدت آ گئی۔ لہٰذا معاشرتی امن کو برقرار رکھنے اور مفاداتی تصادم کی ممکنہ صورتوں کو کم ازکم درجے پر رکھنے کے لئے بین الاقوامی قوانین ناگزیر ہو گئے۔اس کی اپنی زندگی۔۔۔

معاشرتی ترقی کے دوران انسان نے جتنی آسائشیں دریافت کیں، اتنی ہی پیچیدگیاں بھی اس کی زندگی میں در آئیں۔ پھر ان پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لئے نئے قوانین واضح کرنے پڑے۔ یوں قوانین کا ایک انبار لگ گیا اور معاشرتی علوم میں ایک معتبر شعبہ علم قانون کا اضافہ ہو گیا۔ اب اس کا شمار ہر معاشرے میں نہایت اہم شعبہ زندگی (Profession) کے طور پر ہوتا ہے۔ اس شعبہ زندگی سے منسلک حضرات ہماری معاشرتی زندگی کا اہم ستون ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرتی برائیوں کی روک تھام میں ان کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔ قانون کی عمل داری اور لاقانونیت کا خاتمہ ان کا بنیادی فرض ہے۔

  • سپریم کورٹ بار اور پنجاب بار کے آئندہ الیکشن کے حوالے سے مصطفائی جسٹس فورم لاہور کا انتہائی اہم مشاورتی اجلاس زیر صدارت غلام مرتضیٰ سعیدی۔جس میں مصطفائی جسٹس فورم کے راہنما وکلاء اعجاز احمد فقہی،راناخالد محمود قمرالزمان ڈھلوں،ذیشان سہلریا،شاہد نواز اعوان،سلمان گجر،محمد احمد اعجاز،رائے صلاح الدین،ایم ایچ شاہین،محمد رضوان گھمن،عبدالحفیظ ڈھلوں ،شہزاد احمد منڈ اور ظفر اقبال نے شرکت کی ۔
  • https://www.facebook.com/share/p/1U3KkCRpvb/