



TBC
(کنو ینئر)

ڈاکٹر محمد شریف
(کنو ینئر)

TBC
(پریس سیکرٹری)

حکیم آفتاب نیر
(کنوینئر)

حافظ محمد ارشد القادری
(کنوینئر)
اللہ کریم کی عطا کردہ ہر نعمت بیش قیمت ہے۔ مگر صحت کو "ہزار نعمت" قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ اکیلی نعمت ہزار نعمتوں پر بھاری ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اپنے عالی شان گھر میں خوبرو و خوش خصال بیوی بچوں کے ہمراہ انتہائی لذیز کھانا تناول فرما کر گہری نیند سے لطف اندوز ہو رہا ہو اور اچانک دانت درد کرنا شروع کر دے تو مذکورہ بالا تمام نعمتیں مل کر بھی سکون کا باعث نہیں بن سکتیں۔ اس کو سکون صرف اسی وقت ملے گا جب اس کی صحت بحال ہو گی۔ صحت عظیم نعمت ہے اور صحت کو قائم رکھنے یا بحال کرنے کی ذمہ داری ہر معاشرے اور ہر زمانے میں شعبہ طب کے پاس رہی ہے۔ یہاں شاہ و گدا کا ذکر کیا؟ جو بھی روئے زمین پر آیا اس کا پالہ طبیب سے ضرور پڑا۔ یوں ہر معاشرے میں طبیب کا کردار انتہائی اہم اور متاثر کن ہو جاتا ہے۔ لہذا کسی بھی معاشرے میں تبدیلی و ترقی کے لئے شعبہ طب کی اہمیت مسلم ہے۔
معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور کسی بھی مجموعے کو کسی مثبت و تعمیری تبدیلی سے ہمکنار کرنے کے لئے طب کا شعبہ انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ مسیحانہ صفات کا حامل طبقہ اپنے رحمت بھرے کردار اور امید افزاء گفتار کے باعث معاشرے کے غلیظ زخموں کو بڑی آسانی سے مندمل کر کے رحمت بھرے معاشرے (مصطفائی معاشرے) کی سمت گامزن کر سکتا ہے۔ مصطفائی معاشرہ روئے زمین پر ایک ایسا معاشرہ ہے جو ہر انسان کے لئے امن و سلامتی، عدل و انصاف اور فلاح و نجات کا ضامن ہے۔ لہذا ایسے معاشرے میں ہر طبقے کو اپناکردار مصطفی جان رحمت ﷺ کے رحمت بھرے مصطفائی رنگ میں رنگنا ہو گا۔ چونکہ طبیب کا معاشرتی کردار ہی اسی رنگ کا متقاضی ہے۔ تو آئیے خود کو اس رنگ میں رنگ کر اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کو مزید فیض بخش بنائیں۔