Mustafai Dashboard

مصطفائی مزدور محاذ


bismillah

مزدر طبقہ کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی جفا کشی اور فنی مہارت سے خیالوں اور لکیروں کو حقیقت کا رو پ عطا کرتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ جب لکیریں اورخیال مجسم ہو جائیں تو صرف خواب دیکھنے اور لکیریں لگانے والے کا نام کندہ ہو تا ہے۔روئےزمین پر کتنے ایسے عجائبات ہیں جن کے بنوانے والے تو معلوم ہیں مگر بنانے والے نا معلوم ۔یہ فلک بوس عمارتیں،یہ طویل وعریض بل کھاتی شاہراہیں،رنگ برنگا دھواں چھوڑتے کارخانےاور دیوہیکل مشینیں،مزدروں کی شبانہ روز مشقت کا نتیجہ ہے۔ہمارے اردگرد جتنے خوبصورت گھر،دلکش عبادت گاہیں اور پر سکون سیر گاہیں ہیں،سب مزدروں کی محنت کا پھل ہیں۔

زندہ رہنے کے لیے ہر شخص کو کچھ نا کچھ کرنا پڑتا ہے ۔مگر کچھ لوگ اپنی ذات اور مفاد کے لیے کر رہے ہوتے ہیں جب کہ کچھ دوسروں کی خاطر ۔جو لوگ دوسروں کے لیے کرتے ہیں ،ان کو ان کی محنت کا عوضانہ ملتا ہے جسے حرف عام میں اجرت کہاجاتا ہے۔یہی عمل اس کی حیثیت بدل دیتا ہےاور وہ انسان معاشی کلیےکا تیسراجز (مادہ +مشین +مزدور)بن جاتا ہے ۔اس طرح سرمایہ دار کی نظر میں وہ مادہ اور مشین کی طرح احساسات وجذبات سے عاری ایک پرزہ ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کا حصول ضروری ہے ۔یہا ں سے آجراور اجیر کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوتا ہےجبکہ انجام احتجاج،ہڑتالیں اور بغاوت ہے۔نتیجتاًمعاشرہ خودغرضی،مفاد پرستی اور نفسانفسی کا شکار ہو کر منافقت ،بے چینی اور عدم مساوات کی راہ لیتا ہے ۔اس صور ت حال کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو تصادم اور خانہ جنگی ناگزیر ہو جاتی ہے ۔

آجر اور اجیر کی کشمکش زمانۂ قدیم سے چلی آتی ہوگی ،لیکن صنعتی انقلاب نےاس کو انتہا تک پہنچا دیا ہے ، جس کے ردعمل میں کئی مزدور تحریکیں ابھریں اور برسوں خونی جدوجہد کے بعد اس استحصال کو قابل اعتنا سمجھا گیا ۔انسانی حقوق کی تنظیمیں فعال ہوئیں اور عالمی سطح پر مزدوروں کے حقوق پر بات ہونے لگی ۔کئی منشور(Charter ) تیار ہوئے اور اقوام متحدہ میں" یکم مئی "کو مزدوروں کے دن کے طور پر منائے جانے کا اعلان کیا گیا ۔لیکن عملاًاب بھی استحصال جاری ہےاور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرمایہ دارانہ سوچ کے زاویے(Mind set) میں تبدیلی نہیں آتی اور سرمایہ دار خود کو فراخ دلی کے ساتھ مزدور کے حقوق ادا کرنے پر آمادہ نہیں کرتا ۔