


"شوقِ خداوندی''انسان کا شوق ہے،ضرورت یا مجبوری!یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہے۔باپ اپنے بچوں پر،استاد اپنے شاگردوں پراور حکمران اپنی عوام پر حکم چلاتا ہے لیکن تینوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہیں۔البتہ تینوں کے ہاں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے نظم وضبط قائم رکھنا۔حکمران کو حکومت میں نظم وضبط برقرار رکھنے کے لیے باپ ایسی محبت اور استاد جیسی شفقت میسر ہو تو خدا وندی درد سر بن جاتی ہے۔پھر دن کا چین اور رات کی نیند اڑ جاتی ہے۔احساس ذمہ داری اپنے کندھوں پر بوری اٹھاکرضرورت مند کے دروازے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ایسی حکمرانی عین عبادت ہے۔اگر حکمرانی محض نمودو نمائش،راحت و آسا ئش اور طاقت و دولت کے حصول کے لیے ہو تو سیاست بن جاتی ہے۔ایسی سیاست معاشرتی مساوات اور معاشی انصاف کی قاتل ہے جس کا نتیجہ سماجی بگاڑ،بد امنی،لوٹ کھسوٹ اور منافقت ہے۔
ریاست اسی وقت ماں بن سکتی ہے جب حکمران کا دل اپنی عوام کے ہر ہر فرد کے لیے ممتا جیسے احساس سے بھر پور ہو۔ماں کے بچے چند ہوتے ہیں جبکہ ریاست کے بچے لاکھوں کروڑوں میں ہوتے ہیں۔اس لیے حکمران کا دل اتنا ہی بڑا اور اس کا ذہن اتنا ہی کھلا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ حالات وواقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے حال اور مستقبل کے حوالے سے ایسی منصوبہ بندی کر سکے جو عوام کی ضرورتوں کی مساویانہ کفایت کرے اور ہر فرد کو ایسا ماحول اور مواقع میسر ہوں جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کے بھر پور اظہار کے ساتھ اپنے معاشرے کو نت نئی ترقی اور نیا عروج دے سکے ۔
دور حاضر میں سیاست اور حکمرانی مکمل طور پر میکاولیانہ طرز فکرو عمل کا مجسم نمونہ بن چکے ہیں۔جو شخص جتنا بڑا چالباز ہے اتنا ہی بڑا لیڈر ہے اور جو شخص سبز باغ دکھانے کی صلاحیت سے محروم ہے وہ کبھی بھی شاہی ایوانوں کی سیڑھیاں نہیں دیکھ سکتا۔اس صورت حال نے سیاسی میدان میں جھوٹ،فریب،حرص،حوس اور حصول دولت وشہرت کی ایسی دوڑ شروع کر رکھی ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔سیاست دان ملک وملت کوپس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کے پیچھے سر پٹ دوڑ رہے ہیں اور عوام دن بدن زبو ں حالی کے دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ سیاست کے موجودہ رویہ (Mind Set)کو بدلا جائے اور سیاست سے وابستہ افراد کی فکری و عملی تر بیت خلافت راشدہ کی طرز پر کی جائے تاکہ رو ئے ز مین پر ایسی حکومت معرض وجود میں آسکے جو حقیقی طور پر عوام پرور اور انسان دوست ہو۔