تعارف
زندگی کٹھن اور دشوار ہوتی جا رہی ہے، ناخنوں سے گوشت ادھڑ
رہا ہے، رگوں میں خون سفید ہو رہا ہے، آنکھوں کا پانی مر رہا ہے، دلوں میں نفرتیں
پنپ رہی ہیں، بھائی بھائی کا دشمن ہے، دوست دوست کا بیری ہے، انسان انسان کا شکاری
ہے، ہر شخص اپنی ذات کا پجاری ہے، کوئی بھوکا ہو کسی کو کوئی پرواہ نہیں، کوئی
بیمار ہو کسی کو کوئی غرض نہیں، کوئی مجبور ہو کسی کو کوئی فکر نہیں، ہر کوئی اپنی
اپنی جنت کی تلاش میں ہے، چار سو تاریکیوں کا راج ہے اس پر مستزاد ہمارے دور کا
المیہ ہے کہ تنظیمیں بنائی جاتی ہیں، جماعتیں کھڑی کی جاتی ہیں، ادارے چلائے جاتے
ہیں، انقلاب کے دعوے ہوتے ہیں، اصلاح کی ترکیبیں ہوتی ہیں مگر کہیں سے خیر کا سورج
طلوع نہیں ہوتا شاید اس لئے کہ تنظیموں والے اداروں کی اصلاح چاہتے ہیں مگر اپنے
کارکنوں کی اصلاح کئے بغیر، جماعتیں پرانا نظام بدلنا چاہی ہیں مگر خود اس بوسیدہ
نظام کو چھوڑے بغیر، ادارے معاشرے میں اجتماعی تبدیلی چاہتے ہیں مگر معاشرتی اکائی
یعنی فرد میں۔۔۔۔۔۔۔۔ تبدیلی لائے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باشعور ہم وطنو!
انقلاب
بارش کے قطروں کے ساتھ آسمان سے نہیں اترے گا۔ تمہارے دریاؤں کی لہروں سے کوئی
نجات دہندہ نہیں ابھرے گا۔ تمہاری بے بسی کی بیڑیاں اور مجبوری کی زنجیریں کاٹنے
کے لئے اقتدار کے ایوانوں سے کوئی رہبر نہیں نکلے گا۔ کب تک پیٹ بھرنے، تن ڈھانپنے
اور سر چھپانے کی فکر میں اور ادھر بھاگتے پھرو گےاور کب تک بے نور ہوتی آنکھوں کے
کشکول کے لئے انصاف کی بھیک مانگو گے؟
آؤ آگے بڑھتے ہیں۔
ہر
طرح کی برائی، مجبوری، محرومی، جبر، بھوک، افلاس اور جہالت کے اندھیروں کے خلاف
لڑتے ہیں۔ آؤ آسروں اور سہاروں کی بیساکھیاں توڑ کر اپنے اللہ جل جلالہ اور اپنے
رسول کریم ﷺ پر کامل ایمان رکھتے ہوئے اپنی اصلاح آپ ،اپنی مدد آپ، اپنی ترقی آپ
اور اپنا مستقبل آپ کی امنگ لے کر میدان میں اترتے ہیں۔
آئیے! اپنی ذات کو بدلتے ہیں، اپنے گھر کے ماحول کو بدلتے
ہیں، اپنے محلے اور اپنے شہر کے مزاج کو مصطفائی مزاج میں ڈھالتے ہیں، اپنے بے رحم
سماج کے رنگ میں رنگتے ہیں۔ دوسروں کی اصلاح کی تگ و دو سے پہلے اپنی اصلاح کرتے
ہیں۔ محض حقوق کی بات کرنے کی بجائے اپنا اپنا فرض پورا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ محض
مطالبوں کی بجائے دوسروں کی مدد، دوسروں کی خدمت اور دوسروں کے لئے ایثار کو اپنا شعار بناتے
ہیں۔ ظلم، تعصب، استحصال، منافقت، خود غرضی اور مادہ پرستی کے ماحول کو مٹا کر
مصطفائی معاشرہ تشکیل دینے کی سعی کرتے ہیں۔ اسی میں ہماری نجات ہے، اسی میں ہماری
فلاح ہے، اسی میں پاکستان کے باسیوں کے دکھوں کا مداوا ہے، ہماری ذات میں روشنی
اترے گی تو گھر منور ہو گا، تو محلہ جگمگائے گا، تو پورا شہر اجالوں میں ڈوب جائے
گا اور یوں شہر تا شہر پورے ملک سے اندھیروں کا صفایا ہو جائے گا۔
کیا آپ
اجالوں کے اس حسیں سفر کے راہی بن سکتے ہیں؟ کیا آپ اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے شہر
اور اپنے ملک میں خیر اور فلاح کی بہاروں کے خواہاں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آئیے
مصطفائی تحریک کے قافلہ خیر میں شامل ہو جائیے۔ آپ استاد ہوں یا وکیل، ڈاکٹر ہوں
یا انجنیئر، کسان ہوں یا مزدور، صنعت کار ہوں کا قلم کار، آپ کا تعلق زندگی کے کسی
بھی شعبہ سے ہو، آپ کا تھوڑا سا تعاون قطرہ قطرہ سمندر کے مصداق ملک و ملت اور جاں
بلب انسانیت کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
مصطفائی تحریک درد مند، اہل اخلاص اور ارباب محبت کا ایسا
قافلہ تیار کرنا چاہتی ہے جن کی زندگی کا لمحہ لمحہ عشق رسول ﷺ ہو، جن کا کردار
اللہ جل جلالہ اور اس کے پیارے رسول ﷺ، ملت مسلمہ اور وطن عزیز پاکستان کی محبت کے
خالص سونے سے ڈھالا جائے۔ اسی قافلہ میں ایسے لوگ ہوں جو ترقی کے لئے کبھی یہود و
نصاری کے نظریات کی گدائی نہ کریں، واشنگٹن اور ماسکو سے مستعار لئے افکار کو
کامیابی کا ذریعہ نہ سمجھیں اور اپنی پسند کے رہنماؤں کو رہنما ہی جانیں۔ بت بنا
کر ان کی پرستش نہ کریں۔ ان کی زندگیوں کا مقصد اپنے معبود حقیقی خالق کائنات اللہ
جل جلالہ اور محسن انسانیت، حسن آدمیت، رسول رحمت ﷺ ہی کی رضا مندی اور خوشنودی
ٹھہرے۔
پیارے بھائیو! ذرا دل سے مشورہ کر لیجئے ہو سکتا ہے کہ مصطفائی تحریک کے لشکر نور کی ہمراہی آپ کا مقدر ہو۔ ان شاء اللہ آپ کے دل نے یہی فیصلہ کیا ہے تو اب دیر نہ کیجئے، مصطفائی تحریک کی صفیں آپ کی شمولیت کی منتظر ہیں، خوش حال تر پاکستان، محفوظ تر پاکستان، عظیم تر پاکستان آپ کا منتظر ہے۔ امن و سلامتی، عدل و انصاف اور فلاح و نجات سے مہکتا مصطفائی معاشرہ آپ کی راہ دیکھ رہا ہے۔ اس جہان کی کامیاب زندگی اور اگلے جہان کا مظفر و منظور حیات آپ کا منتظر ہے۔
اغراض و مقاصد:
ü
اللہ کریم جل جلالہ اور رسول امین ﷺ کی خوشنودی کو مقصد
حیات بنانا۔
ü
صوفیائے اسلام کے طریق پر لوگوں میں خدمت خلق، محبت انسانیت
اور احترام آدمیت کا شعور بیدار کرنا۔
ü
جہالت اور ناخواندگی کے خلاف بھرپور علمی تحریک اٹھانا۔
ü
دین مصطفی ﷺ کی روشنی میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے
لئے تگ و تاز کرنا۔
ü
غریب اور خصوصی (معذور) افراد کی خود کفالت کے لئے تربیتی
مراکز قائم کرنا۔
ü
منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لئے اجتماعی جدوجہد کرنا۔
ü
سود، رشوت، بدعنوانی، بے حیائی اور دیگر معاشرتی برائیوں کے
خلاف جہاد کرنا۔
ü
خوشحال اور عظیم تر پاکستان کے لئے نسلی، گروہی، لسانی،
علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصبات مٹاکر قومی یکجہتی کو فروغ دینا۔
ü
عصر جدید میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لئے فکری لٹریچر
تیار کرنا۔
ü
الحاد، لادینیت اور بدعقیدگی کے خلاف برسرپیکار ہونا۔
ü عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل کے تجزیہ اور حل تجویز کرنے کے لئے مصطفائی پارلیمنٹ قائم کرنا۔
ہماری سرگرمیاں
ü عبادت اللہ جل جلالہ
کی، محبت و اطاعت رسول کریم ﷺ کی، خدمت مخلوق خدا کی، پیارے پاکستان کی ترقی و
خوشحالی کے لئے کوششیں کرنا۔
ü معاشرے کی تربیت اور
دامن مصطفی ﷺ سے وابستگی کے لئے ماہانہ دروس قرآن اور محافل میلادمصطفیﷺ کا انعقاد
کرنا
ü مقامی سطح پر افراد
کی تربیت اور رابطہ کے لئے ہفتہ وار "مصطفائی محافل" کا انعقاد کرنا۔
ü جہالت اور ناخواندگی
کے خاتمے کے لئے "اسکولز" کا قیام اور ان کے درمیان موثر رابطہ قائم
کرنا۔
ü مختلف ملی و قومی
ایام اور تہواروں پر جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد کرنا اور پاکستان میں
مصطفائی معاشرے کے قیام کے لئے مصروف عمل رہنا۔
ü معاشرے میں انتہا
پسندانہ سوچ کو روکنے کے لئے صوفیاء کے طریق پر دکھی انسانیت کے لئے مصطفائی لنگر
کا قیام۔
ü معاشرے میں رشوت،
بدعنوانی، بے حیائی سمیت دیگر برائیوں کے خاتمے کے لئے سیمینارز کا اہتمام کرنا۔
ü نظریہ پاکستان اور
قومی یکجہتی کے فروغ کے لئے کانفرنسوں کا اہتمام کرنا اور معاشرے کی بہتری کے لئے
فکری لٹریچر کی اشاعت۔
ü نوجوان نسل کی اصلاح
اور اخلاقی تربیت کے لئے مراکز قائم کرنا۔
ü مختلف آفتوں اور
بیماریوں سے بچاؤ اور تدارک کے لئے عوام کو سہولت فراہم کرنا اور عملی قدم اٹھانا۔
ü مصیبت کی گھڑیوں میں
دکھی انسانیت کی عملی خدمت کرتے ہوئے امدادی کیمپوں کا اہتمام۔
ü معاشرے میں جاری ظلم
کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے مظاہروں کا اہتمام اور مظلوموں کو قانونی امداد
فراہم کرنا۔
ü ہم خیال تنظیموں کو منظم کرنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرنا۔