تاریخ کے اوراق کھولیں تو حجاز سے برصغیر تک کے سفر میں سب سے اہم مسلم فاتحین کا سفر نظر آتا ہےاوریہی حقیقت بھی ہے ۔کیونکہ اس سفر میں صرف چند جنگجوؤں نے برصغیر کی دھرتی پر قدم نہیں رکھا تھا بلکہ ان کے ساتھ ایک دین، ایک تہذیب، ایک ثقافت یعنی ایک مکمل طرز زندگی نے برصغیر کی آنے والی تاریخ کا پہلا حرف لکھ دیا تھا۔
مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی اس علاقہ کی جغرافیائی حدود تو بدلتی ہی رہیں ، مگر ساتھ ہی ساتھ نظریاتی آبیاری کا کام بھی جاری رہا جس کے تحت اچھائی برائی کے پیمانوں کا فرق، رشتوں کا تقدس اور تفریق، کھانا پینا، اوڑھنا بچھونا اور لکھنا پڑھنا تک تبدیلی کے سفر کی منازل طے کرتا رہا۔ دیگر امورِ زندگی کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں کیلئے جو ایک اہم تبدیلی آئی وہ صحت کے شعبے میں تھی۔ حجاز سے آنے والے مسلمان، اول تو بیمار ہی بہت کم ہوتے تھے اور اگر بشری تقاضے کے پیش نظر انہیں کوئی معمولی بیماری لاحق ہو بھی جاتی تھی تو وہ خود ہی اس کا علاج بھی کر لیتے تھے ۔ اگر بیماری کچھ شدت اختیار کرتی تو وہ اپنی کتاب، بزرگوں اور اپنے ساتھ لائی ہوئی کچھ خشک جڑی بوٹیوں سے رجوع کرتے۔ یہاں کے رہنے والوں کیلئےیہ ایک اچنبھے کی بات تھی کیونکہ ان کے نزدیک ان کے علاقے سے بڑھ کر زرخیز علاقہ دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس نہیں تھا اور یہاں کے جنگلات، پہاڑوں اور ندی نالوںکے کنارے پائی جانے والی جڑی بوٹیاں دنیا کے ہر مرض کا علاج سمجھی جاتی تھیں۔ ان جڑی بوٹیوں سے علاج معالجہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی اس کام کیلئے کچھ وید موجود تھے جو نسل در نسل ان کے اجزائے ترکیبی کو ایک مخصوص انداز میں ملا کریا انہیں آگ کے کسی عمل سے گزار کر لوگوں کو دیتے تھے۔ اور لوگ معمولی سے معمولی بیماری کیلئے بھی انہی کے پاس جانے کے محتاج تھےاور یہ سہولت بھی صرف اشرافیہ کے طبقے کو ہی حاصل تھی۔معمولی طبقے کے افراد(شودر وغیرہ) کیلئے دوا لینا تو دور کی بات ، مذہبی عبادات تک میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔
وقت نے کروٹ لی اور مسلمان اس علاقے کے حکمران بن گئے، اس دور میںاسی دیسی طب کو عروج حاصل رہا لیکن انگریزوں کے اس خطے میں آنے کے بعد معاشرتی رویوں کے ساتھ ہی طب کے میدان میں بھی سیاہ کن تبدیلیاں ہوتی چلی گئیں۔حجاز اور ہندوستان کے نخلستانوں سے نکلنے والے صحت کے انمول خزانےپس پشت چلے گئے اور ان کی جگہ ٹیکوں، کیپسولوں اور غیرفطری رفتار سے وقتی آرام پہنچانے والی ادویات نے لے لی۔ جس کے نتیجے میں ہماری قوم کی مجموعی صحت زوال پذیر ہوتی چلی گئی ۔ گذشتہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے انگریزی زبان کی طرح انگریزی طب بھی ہمارے اعصاب پر سوار ہے ۔لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ پاتے ہی معلومات کا تبادلہ آسان ہو گیاہے اور دنیا مختلف حقائق سے آگاہ ہونے لگی ہے۔ لوگ جاننا شروع ہو گئے ہیں کہ چین میں لوگ مقامی طب کا استعمال کر کے کیسے صحت مند رہتے ہیں، جاپان، سری لنکا، بھارت حتیٰ کہ جرمنی کے لوگوں نے اپنی اپنی مقامی طب کو اپنا کر نہ صرف اپنے زرمبادلہ کو محفوظ کیا بلکہ صحت کو نقصان پہنچانے والی ادویات سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیا۔پاکستان میں بھی گذشتہ کچھ سالوں سے لوگ دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
اگرچہ سرکاری سطح پر طب پر ریسرچ اور اس کی تعلیم عام کرنے پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا مگر ذاتی حیثیت میں بہت سی شخصیات اور ادارے ایسے ہیں جن کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔مثال کے طور پر ہمدرد کے بانی حکیم محمد سعید شہید کا ذکر کیا جا سکتا ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستان کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا بلکہ دن رات محنت ، لگن اور ایک جذبے کے تحت چھوٹے سے ہمدرد دواخانہ کو ایک بہت بڑا ادارہ بنانے کی جدوجہد کی آج ہمدرد دواخانہ، ہمدرد یونیورسٹی اور اس کے تحت چلنے والے دیگر ادارے پاکستانیوں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہی کی طرح دیگر بہت سارے اداروں نے دیسی ادویات کو کاروباری پیمانے پر تیار کرنے کا آغاز کیا جن میں بہت سے کامیاب بھی ہوئے آج ان کی وجہ سے ہی پاکستان میں دیسی ادویات کا حصول ممکن ہےاور انہی کی وجہ سے ہی طب سے بندھی ایک موہوم امید کی کرن روشن رہی جس نے آج شمعِ فروزاں بن کر لوگوں کو حق کی راہ دکھانا شروع کر دی ہے۔ پڑھے لکھے اور سمجھدار افراد دن بدن طب کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور یقیناً یہی بحیثیت قوم ہمارے بہترین مستقبل کی دلیل ہے۔
پانی زیادہ مقدار میں یک لخت نہیں پینا چاہیے ایسا کرنے سے معدہ و جگر میں کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔دھوپ سے آنے کے فوراً بعد یک لخت پانی نہیں پینا چاہیے بلکہ کچھ دیر سکون کرنے کے بعد چسکی لے کر آہستہ آہستہ پانی پینا مفید ہے۔ پاکستان میں جون اور جولائی کے مہینوں میں شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ سورج کی کرنوں سے شرارے برستے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج سوا نیزے پر آگیا ہے۔ سر سے پائوں تک سارا جسم پسینے میں شرابور رہتا ہے۔ جھلسا دینے والی لو سے زبان خشک ہوجاتی ہے۔ ہونٹوں پر پپڑیاں جم جاتی ہیں۔ سرسبز و شاداب درخت مرجھا جاتے ہیں۔ خوشنما اور خوش رنگ پھول کملا جاتے ہیں۔ دوپہر کے وقت لوگ گھروں اور سایہ دار جگہوں کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ گلی کوچے اور سڑکیں ویران ہوجاتی ہیں۔ بھری پُری آبادیوں میں سناٹا چھا جاتا ہے۔ ندی نالے اور دریا خشک ہوجاتے ہیں۔ نہ کھانے کا کچھ لطف آتا ہے اور نہ کپڑے پہننے کا۔ صحت کے لحاظ سے بھی موسم گرما انتہائی خراب موسم ہے۔ بھوک ختم ہوجاتی ہے۔ دل اور تنفس کی حرکات سست پڑجاتی ہیں۔ جسم کے عضلات ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ بے چینی اور بے قراری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پیاس کا غلبہ ہوتا ہے۔ جسم پر گرمی دانے نکل آتے ہیں۔ خشکی بڑھ جاتی ہے۔ موسم گرما گرم ہونے کے ساتھ ساتھ خشک بھی ہوتا ہے اس لیے کہ اس موسم میں حرارت کی زیادتی کی وجہ سے رطوبات تحلیل ہوجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں اس موسم میں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ لہٰذا اس موسم میں حرارت اور خشکی بڑھ جاتی ہے۔ موسم گرما میں زیادہ تر صفراوی بخار‘ قے‘ اسہال‘ تپ محرقہ‘ سردرد‘ خفقان‘ ہیضہ‘ پیچش اور سرسام جیسی بیماریاں انسانی صحت کیلئے خطرے کا باعث ہوتی ہیں۔ تاہم اگر اس موسم میں احتیاط برتی جائے اور دی ہوئی ہدایات پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ہر شخص موسم گرما کے مضر اثرات سے اپنے آپ کو بڑی حد تک بچانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر پینے سے متعلق ہدایات موسم گرما میں شدت کی پیاس لگتی ہے اور انسان اس پیاس کو مٹانے کیلئے طرح طرح کی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ کہیں برف کا ٹھنڈا یخ پانی پیتا ہے اور کہیں کولا مشروبات کا استعمال کرتا ہے۔ مگر پیاس ہے کہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پیاس کو تسکین پہنچانے کیلئے برف کو پانی میں ڈال کر استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ برف میں صراحی یا گلاس لگا کر ٹھنڈا کرکے پینا مفید ہے یا پھر فرج میں پانی کی بوتل بھر کر رکھ دیں اور ٹھنڈا ہونے پر پئیں۔ برف کا کثرت سے استعمال معدہ و جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پانی زیادہ مقدار میں یک لخت نہیں پینا چاہیے ایسا کرنے سے معدہ و جگر میں کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔ دھوپ سے آنے کے فوراً بعد یک لخت پانی نہیں پینا چاہیے بلکہ کچھ دیر سکون کرنے کے بعد چسکی لے کر آہستہ آہستہ پانی پینا مفید ہے۔ مٹی کے برتن میں ٹھنڈا کیا ہوا پانی پیاس کو تسکین پہنچاتا ہے۔ کولا مشروبات کا استعمال بجائے فائدے کے نقصان پہنچاتا ہے اس لیے دہی کی پتلی لسی‘ کچی لسی (دودھ کو جوش دے کر ٹھنڈا کرکے اس میں پانی ڈال کر پینا) مشروبات مثلاً شربت صندل‘ شربت نیلوفر‘ شربت بزوری‘ شربت فالسہ‘ لیموں کی سکنجبین وغیرہ کا استعمال ازحد مفید ہے۔ چائے ایک یا دوکپ سے زیادہ ہرگز استعمال نہ کریں۔ غذا سے متعلق ہدایات موسم گرما میں غذا سے متعلق بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ذرا سی بد پرہیزی انسان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ موسم گرما میں زود ہضم غذا استعمال کرنی چاہیے۔ ایسی غذائیں جن میں چربی اور نشاستہ دار اجزاءبکثرت ہوں استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ مثلاً گوشت‘ گھی‘ مٹھائیاں‘ بینگن وغیرہ ان چیزوں کے استعمال سے جسم میں حرارت بڑھ جاتی ہے۔ گرمیوں میں تازہ سبزیاں اور پھل استعمال کریں اور کھانے کے ساتھ سرکہ‘ پیاز‘ لیموں‘ پودینہ وغیرہ ضرور استعمال کریں۔ تاہم چاولوں کے ساتھ سرکہ استعمال نہ کریں۔ باسی اشیاءاستعمال نہ کی جائیں۔ زیادہ روٹی نہ کھائیں۔ کھانے کے ساتھ مقدار میں بہت زیادہ ٹھنڈا پانی بھی استعمال نہ کریں۔ٹھنڈی ترکاریاں مثلاً گھیا‘ کدو‘ ٹینڈے‘ پالک توری وغیرہ مفید ہے۔اس موسم میں کھیرا‘ ککڑی‘ تربوز‘ لوکاٹ بڑھی ہوئی حرارت کو اعتدال پر لانے میں انتہائی مفید اور موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جامن‘ آم‘ انگور اور خربوزہ بھی اس موسم کے بہترین پھل ہیں۔ تاہم آم استعمال کرنے کے بعد دودھ کی لسی پینا انتہائی مفید ہے۔
باریک کپڑے پہن کر گھر سے نکلنا انتہائی نقصان دہ ہے لہٰذا موٹا اور سوتی کپڑا پہن کر گھر سے نکلیں ورنہ جلد کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ لو سے متاثرہ افراد کیلئے ہدایات بعض لوگ گرمی کی شدت یا لوبرداشت نہیں کرپاتے اور بیہوش ہوجاتے ہیں۔ ایسے متاثرہ افراد کو فوراً ٹھنڈی اور ہوا دار جگہ پر لٹائیں۔ چہرے پر سرد پانی کے چھینٹے ماریں‘ تولیہ یا کوئی موٹا کپڑا ٹھنڈے پانی میں بھگو کرجسم کو پونچھیں۔ مریض کے ہوش میں آجانے کے بعد ٹھنڈا پانی‘ لیموں کی سکنجبین‘ صندل کا شربت وغیرہ پلائیں۔ مریض کو او آر ایس پانی میں ملاکر پلانا بھی مفید ہے۔